BISP بریسٹ فیڈنگ ہفتہ 2026: نشوونما پروگرام کی کامیابیاں اور ماؤں کے لیے اہم پیغام

🇵🇰 BISP نے عالمی بریسٹ فیڈنگ ہفتہ 2026 منایا، ماؤں اور بچوں کی غذائیت کے عزم کا اعادہ

BISP عالمی بریسٹ فیڈنگ ہفتہ 2026 کی تقریب، ماں اور بچہ

SUH Info.com – پاکستان کے عوام کے لیے ایک اہم خبر: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) نے یونیسیف (UNICEF)، عالمی ادارہ صحت (WHO)، عالمی خوراک پروگرام (WFP) اور وزارت قومی صحت کے اشتراک سے عالمی بریسٹ فیڈنگ ہفتہ 2026 کی ایک شاندار افتتاحی تقریب BISP ہیڈکوارٹر میں منعقد کی۔ اس تقریب کا مقصد ماں کے دودھ (بریسٹ فیڈنگ) کو فروغ دینا، اس کے تحفظ اور اس کی حمایت کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار کرنا تھا۔ اس اہم موقع پر سینئر سرکاری افسران، ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندے، صحت کے شعبے کے ماہرین اور غذائیت کے بڑے ناموں نے شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ماں کا دودھ نہ صرف بچے کی غذا ہے بلکہ یہ اس کی زندگی کی پہلی اور سب سے مضبوط ویکسین ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، بریسٹ فیڈنگ سے نہ صرف بچے کو مکمل غذائیت ملتی ہے بلکہ یہ اس کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کی بنیاد بھی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں غذائی قلت اور پسماندگی (Stunting) ایک بڑا مسئلہ ہے، وہاں BISP کا یہ اقدام قومی سطح پر ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تقریب نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ اگر ہمیں ایک صحت مند اور مضبوط قوم چاہیے تو ہمیں ماؤں اور بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔

🎤 چیئرپرسن BISP سینیٹر روبینہ خالد کا جذباتی اور پُرمغز خطاب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن BISP سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ "بریسٹ فیڈنگ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے" جو ہر بچے کو زندگی کا بہترین اور صحت مند آغاز فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماں کا دودھ بچوں کی بقا، خاندانی خوشحالی، انسانی سرمایے کی ترقی اور مجموعی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے تمام ماؤں سے اپیل کی کہ وہ پہلے چھ ماہ تک اپنے بچوں کو صرف اور صرف ماں کا دودھ پلائیں اور غیر ضروری طور پر فارمولہ دودھ یا بوتل فیڈنگ کے استعمال سے گریز کریں، کیونکہ یہ بچے کی قوت مدافعت کو کمزور کرتا ہے اور اسے مختلف بیماریوں میں مبتلا کر سکتا ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے خواتین اور بچوں کی صحت کے لیے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام جیسے تاریخی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ آج بے نظیر نشوونما پروگرام اسی وژن کو عملی جامہ پہنا رہا ہے، جس کا مقصد حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو بہترین صحت اور غذائیت کی خدمات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ BISP نے حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں تک رسائی کا ایک ایسا منفرد طریقہ کار قائم کیا ہے جو پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف مالی امداد (نقد رقم) کافی نہیں، بلکہ ماؤں کو صحت مند حمل اور بچوں کی بہبود کے لیے درست معلومات، مشاورت، سماجی تحفظ اور معیاری صحت کی خدمات تک رسائی فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

🌱 بے نظیر نشوونما پروگرام: کامیابی کی داستان

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل کنڈیشنل کیش ٹرانسفر ڈاکٹر عاصم اعجاز نے مہمانوں کو بے نظیر نشوونما پروگرام کی کامیابیوں سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ BISP اس وقت 1.4 ملین سے زائد فعال مستفید خواتین تک پہنچ چکا ہے۔ ملک بھر میں قائم کیے گئے 578 سہولت مراکز کے ذریعے ان خواتین کو ماہرین کی مشاورت (کاؤنسلنگ) اور صحت کی ضروری خدمات جیسے قبل از پیدائش (ANC) اور بعد از پیدائش (PNC) کی دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر عاصم اعجاز نے مزید بتایا کہ نشوونما پروگرام 169 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز کے ذریعے بھی بریسٹ فیڈنگ کا پیغام عام کر رہا ہے۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ یہ پروگرام پاکستان میں پسماندگی (Stunting) کی شرح کو کم کرنے اور بریسٹ فیڈنگ کے بارے میں شعور بیدار کرنے میں ایک تاریخی کامیابی ہے۔ اس پروگرام کی بدولت ہزاروں مائیں اب اپنے بچوں کو صحیح طریقے سے دودھ پلا رہی ہیں، جس سے بچوں کی صحت اور قوت مدافعت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

🤝 ترقیاتی شراکت داروں (UNICEF, WHO, WFP) کے اہم پیغامات

🇺🇳 یونیسیف (UNICEF)

یونیسیف کی کنٹری نمائندہ محترمہ پرنیل آئرن سائیڈ نے BISP کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ "ماں کا پہلا دودھ (کلوسٹرم) بچے کی پہلی ویکسین ہے"۔ انہوں نے زور دیا کہ بریسٹ فیڈنگ کا آغاز بچے کی پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر ہونا چاہیے۔ یہی وہ سنہری گھنٹہ ہے جو بچے کو بیماریوں سے بچاتا ہے اور اسے زندگی بھر کی مضبوط قوت مدافعت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بے نظیر نشوونما پروگرام کو اس حوالے سے ایک بہترین ماڈل قرار دیا اور کہا کہ یہ پروگرام پوری دنیا کے لیے قابل تقلید ہے۔

🏥 عالمی ادارہ صحت (WHO)

ڈبلیو ایچ او پاکستان کی نائب نمائندہ محترمہ ایلن تھام نے کہا کہ بے نظیر نشوونما پروگرام سماجی تحفظ (Social Protection) کو صحت اور غذائیت سے منسلک کرنے کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ WHO اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا کہ ہر ماں اور بچے کو صحت کی بہترین سہولیات میسر آئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بریسٹ فیڈنگ نہ صرف بچے بلکہ ماں کی صحت کے لیے بھی بے حد فائدہ مند ہے، اس سے ماں میں چھاتی کے کینسر اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

🍲 عالمی خوراک پروگرام (WFP)

ڈبلیو ایف پی پاکستان کے نائب کنٹری ڈائریکٹر مسٹر تھامس کونن نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ زچہ و بچہ کی غذائیت بہتر بنانے اور خواتین کو بااختیار بنانے کا سب سے سستا، آسان اور مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے BISP کے ساتھ ڈبلیو ایف پی کی شراکت داری کو سراہا اور کہا کہ کمیونٹی بیسڈ مداخلتوں کے ذریعے بریسٹ فیڈنگ کے مستقل اور یکساں پیغامات کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر گھر تک یہ پیغام پہنچ سکے۔

📊 ڈاکٹر صبا شجاع (ابتدائی بچپن ترقی مینیجر، یونیسیف) نے عالمی تھیم اور قومی مہم کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال کا تھیم "سماجی تحفظ کے ذریعے بریسٹ فیڈنگ کا تحفظ" ہے، جس کا مقصد معاشرتی سطح پر ماؤں کو سپورٹ کرنا اور انہیں معاشی و سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنے بچوں کو دودھ پلا سکیں۔

🛡️ پینل ڈسکشن: "سماجی تحفظ کے ذریعے بریسٹ فیڈنگ کا تحفظ"

اس اہم پینل ڈسکشن میں BISP، یونیسیف، WHO، WFP، وزارت قومی صحت اور پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے نامور ماہرین نے شرکت کی۔ انہوں نے بریسٹ فیڈنگ کو فروغ دینے کے لیے مربوط غذائیت، صحت اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کو آپس میں جوڑنے کی حکمت عملیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ ماہرین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ صرف طبی سہولیات فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ ماؤں کو معاشی طور پر بااختیار بنانا، انہیں کام کی جگہ پر چھٹیاں دینا اور انہیں ذہنی سکون فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ وہ بغیر کسی تناؤ کے اپنے بچے کی پرورش کر سکیں۔

🤲 اختتامی کلمات اور مستقبل کا عزم

تقریب کے اختتام پر BISP کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر عاصمت نواز نے تمام شراکت دار تنظیموں (یونیسیف، WHO، WFP، وزارت قومی صحت) کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کا تعاون BISP کے مشن کا ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ BISP اپنے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پاکستان کی ہر ماں اور ہر بچہ کو صحت مند اور خوشحال مستقبل کے لیے درکار تمام تر سہولیات اور معلومات میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایک ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جہاں کوئی بچہ غذائیت کی کمی کا شکار نہ ہو اور ہر ماں کو اپنے بچے کو دودھ پلانے پر فخر ہو"۔

📊 بے نظیر نشوونما پروگرام – ایک نظر (فوری جائزہ)

  • 1.4 ملین+ مستفید خواتین
  • 578 سہولت مراکز (مشاورت اور حوالہ جات)
  • 169 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز
  • ✅ پسماندگی (Stunting) میں نمایاں کمی
  • ✅ بریسٹ فیڈنگ کے بارے میں شعور میں غیر معمولی اضافہ

💬 SUH Info کا قارئین کے نام پیغام:

پیارے پاکستانیو! ماں کا دودھ آپ کے بچے کی صحت اور مضبوط مستقبل کی پہلی سیڑھی ہے۔ BISP اور اس کے شراکت دار اس اہم مشن کو کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ آئیں، ہم سب مل کر ماؤں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ پہلے چھ ماہ صرف ماں کا دودھ پلائیں اور فارمولہ دودھ سے پرہیز کریں۔ یاد رکھیں، "صحت مند ماں، صحت مند بچہ، اور صحت مند پاکستان" ہی ہمارا اصل نعرہ ہے۔ اس اہم معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ہمارا پاکستان ایک صحت مند اور خوشحال ملک بن سکے۔

✍️ تحریر و پیشکش: SUH Info.com (پاکستانی عوام کی بہتر تفہیم کے لیے اُردو میں)

© 2026 - جملہ حقوق محفوظ | ماخذ: BISP، یونیسیف، WHO، WFP

یہ تحریر بلاگر کے Compose View میں مکمل طور پر نمائش پذیر ہونے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

رائے دیجیے (Comments):

💬 SUH لائیو چیٹ